ابنا: جماعت اسلامی پاکستان خواتین ونگ کی سرگرم رہنما نے اسلام ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا میرا پیغام یہ ہے کہ ہم خواتین ہی آگے بڑھ کر اپنے معاشرے کو متحد و متحرک کریں اور اپنی نسلوں کی ایسی تربیت کر لیں کہ جن میں ہم مزاحمت کا جذبہ بیدار کریں، جو دشمن کی آنکھوں کا کانٹا بن جائے، تاکہ ہماری عظمت رفتہ بحال ہو۔سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان، قاضی حسین احمد کی صاحبزادی اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی 24 اپریل 1965ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ نے گریجوایشن پنجاب یونیورسٹی سے کرنے کے بعد اسلامک اسٹڈیز میں بلوچستان یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے حال ہی میں ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقدہ خواتین اور اسلامی بیداری کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ اسلام ٹائمز نے خواتین اور اسلامی بیداری کانفرنس کے حوالے سے ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی سے انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔
اسلام ٹائمز: آپ نے حال ہی میں ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقدہ خواتین اور اسلامی بیداری کانفرنس میں شرکت کی، اس کا احوال بتائیں، آپ اس کانفرنس سے کس حد تک متاثر ہوئیں۔؟سمعیہ راحیل قاضی: حالیہ اسلامی بیداری کانفرنس سے پیشتر بھی ایران کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات تھے۔ میرے والد گرامی تقریب بین المذاہب جو ایران کا ایک ادارہ ہے جو تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے لئے کام کر رہا ہے، سے مربوط ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی بیداری کانفرنس جو اس سے پیشتر ایران میں منعقد کی گئی تھی، اس کے ایک سیشن میں میرے والد کو انہوں نے صدارت کا موقع دیا۔ تو اس حوالے سے میرا ویسے بھی ایک تعلق اور دلچسپی ایران سے موجود تھی۔ جس کی وجہ سے ہمیں دعوت نامہ ملا۔
اس کے علاوہ مسلم خواتین کی سب سے بڑی عالمی تنظیم، انٹرنیشنل مسلم وومن یونین ایشین برانچ کی میں صدر ہوں، ایران نے چھ سات سال تک اس یونین کی صدارت کی تھی، اس ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی چیئرمین ایک ایرانی خاتون تھیں، محترمہ فاطمہ کروبی صاحبہ، تو ہمارا ایران کے ساتھ اور ان کی خواتین کے ساتھ اور اس کاز کے ساتھ گہرا رشتہ اور دلچسپی ہے۔ اسلامی بیداری کے ساتھ میں 1995ء سے وابستہ ہوں، تو اس حوالے سے ایران جانا بھی ہوتا رہتا ہے، خواتین کی حالیہ کانفرنس کی تیاری بہت عرصے سے ایرانی حکومت کر رہی تھی، ایک دو سال کی تیاری کے ساتھ انہوں نے یہ کانفرنس منعقد کی اور ماشاءاللہ 85 ممالک سے 1200 بہت prominent خواتین نے اس میں شرکت کی اور ماشاءاللہ دنیا کے ہر کونے سے خواتین شریک تھیں اور اس کانفرنس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ جدوجہد اور کشمکش کا جو راستہ اسلامی تحریکوں نے اپنایا ہے، انہوں نے ظلم کو نہ سہنے کا جو ایک انداز اپنایا ہے اور جو ایک مزاحمتی رویہ ہے، جو ایران کی لیڈرشپ سے لیکر ان کی عوام تک اور امام انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی صاحب کے انقلاب کے بعد ایرانی قوم میں مزاحمتی جذبہ ہے۔
ظلم کے خلاف، کفر کے خلاف، اسرائیل کے خلاف۔ تو یہ کانفرنس اس کا ایک بہت بڑا اظہار تھا۔ اس کانفرنس کی سب سے نمایاں بات بھی اس مزاحمت کو خراج تحسین پیش کرنا تھا، جس نے مسلمانوں کے اندر ایک نئی روح پھونکی۔ انہوں نے دنیا کے کونے کونے سے جہادی جذبہ رکھنے والی خواتین، جدوجہد سے وابستہ خواتین، میں قتال نہیں کہہ رہی، میں جہاد کہہ رہی ہوں، وہ جدوجہد جو فکری، عملی و اخلاقی میدان میں بھی کارفرما ہے۔ تو جو اس فکری و اخلاقی میدان میں خواتین کام کر رہی ہیں، ان ساری خواتین کو ایران نے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور الحمد اللہ وہ بھرپور طریقے سے اس میں کامیاب ہوئے۔ ایرانی حکومت بھی ایرانی عوام بھی، اس کانفرنس میں اتنی بڑی تعداد تھی، اللہ کرے ہم اس کانفرنس کے ثمرات اور نتائج کو سمیٹ سکیں۔ جتنی بڑی تعداد میں بیداری کانفرنس میں خواتیں شریک تھیں، اتنے ہی ہم جوان جذبے لائے ہیں، اللہ کرے کہ یہ جذبے اسی انداز میں برقرار رہیں۔
اسلام ٹائمز: حالیہ خواتین اور اسلامی بیداری کانفرنس کے دوران کن کن شخصیات سے آپ کی ملاقات ہوئی اور آپ ان سے کس حد تک متاثر ہوئیں۔؟سمعیہ راحیل قاضی: 85 ممالک سے بہت بڑے بڑے وفود تھے، ہماری ملاقات آزادی فلسطین کے لوگوں سے ہوئی، جماعت اسلامی ھند کی ناظمہ وہاں موجود تھیں، ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر جو طالبان کی قید میں مسلمان ہوئی ہیں، ریان ریڈلے، وہ چونکہ میرے ساتھ انٹرنیشنل مسلم وومن یونین میں بھی ہیں، میں ایشیاء کی صدر ہوں، وہ یورپ کی صدر ہیں، ان کے ساتھ بڑی مفید بات چیت ہوئی، ہم نے اپنی یونین کے بارے میں بھی اسٹریٹجی Develop کی۔ اس کے علاوہ مصر، شام، عراق، تیونس کے لوگ تھے۔ عرب بہار کی بھی جتنی سرکردہ خواتین تھیں، وہ وہاں شریک ہوئیں، ان سے ہم نے جذبے حاصل کئے، یورپ، افریقہ اور سوڈان کے لوگ تھے، امریکہ و آسٹریلیا سے بڑے بڑے وفود شامل تھے۔
اٹلی، سویڈن و ناروے کے لوگ شامل تھے، جہاں حجاب کا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، پوری دنیا میں میڈیا سے وابستہ خواتین کے گروپ سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ان کے ایک سیشن میں ہم نے شرکت بھی کی، جسمیں بتایا گیا کہ میڈیا اسٹریٹجی کیا اختیار کرنی چاہیے۔ الغرض بہت زیادہ مفید کانفرنس رہی۔ اس دوران لوگوں کو تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا گیا۔ ہم نے بہت اچھی ملاقاتیں کیں، بہت اچھے دن گزارے، جو آئندہ ہماری تحریک اسلامی کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔
اسلام ٹائمز: کانفرنس میں شریک خواتین بالخصوص ایرانی خواتین کے اسلامی بیداری میں رول اور تجربات سے آپ نے کس حد تک استفادہ کیا۔؟سمعیہ راحیل قاضی: دیکھیں جی ایرانی خواتین کے کام کرنے کے انداز سے ہم پہلے بھی متاثر ہیں، خاص طور پر میں سمجھتی ہوں کے وہ ہمارے لئے رول ماڈل ہیں، انہوں نے ثابت کیا کہ پردہ عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے، ہم زبانی کلامی باتیں تو کرتے ہیں، لیکن ایرانی خواتین نے بہت بڑی تعداد میں بہت آگے تک جا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں Participate کیا ہے، انہوں نے اپنی روایات کی پوری پاسداری کے ساتھ قوم و ملک کی ترقی میں بھرپور حصہ لیا ہے، اس بات نے تمام خواتین کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ وہ پوری دنیا کے لئے رول ماڈل ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی اقدار کی پاسداری بھی کی ہے اور دنیا کے جدید چیلنجز کا مقابلہ بھی کیا ہے۔
اسلام ٹائمز:خواتین اور بیداری اسلامی کانفرنس میں شرکت کے بعد کیا آپ پاکستان میں ایسی کانفرنس منعقد کرنے کی خواہاں ہیں۔ اس حوالے سے آپ نے کیا زمینہ سازی مرتب کی ہے۔؟سمعیہ راحیل قاضی: جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت خواتین کے اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں، مگر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کرنا یہ حکومتوں کا کام ہے، یہ کسی پارٹی یا کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں ہے۔ کانفرنس میں ہمارے ساتھ خیبر پختونخوا اور سندھ کی وزراء ترقی خواتین بھی شریک تھیں، جن کو ہم نے اس سلسلے میں گزارش بھی کی ہے اور وہیں ان کے ساتھ مل کر Plan بنایا تھا کہ ہم بھی کوئی اس طرح کی خواتین کانفرنس رکھیں اور اس وقت تو انہوں نے ہمیں وہاں مثبت جواب دیا تھا، اب پاکستان پیپلز پارٹی، پی ایم ایل ن اور پشاور میں اے این پی کی کافی بڑی تعداد میں خواتین کانفرنس میں موجود تھیں۔ اب ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت اس کے پروگرام کا انعقاد جلد یقینی بنائے گی۔ جماعت اسلامی خواتین ونگ نے اپنے طور پر 4 ستمبر جو کہ انٹرنیشنل حجاب ڈے ہے۔ ہم نے اس دن کو Plan کیا ہے کہ ہم اس دن اپنے تئیں ایک قومی کانفرنس انشاءاللہ کریں گے، جس میں پاکستان بھر سے ہم خواتین کو بلانے کی کوشش کریں گے۔
اسلام ٹائمز: ماشاءاللہ اس عالمی خواتین کانفرنس میں آپ نے پاکستان کی نمائندگی کی، پاکستانی خواتین کا جو اسلامی بیداری میں رول ہے اس حوالے سے کانفرنس سے خطاب میں آپ نے کیا معروضات پیش کیں۔؟سمعیہ راحیل قاضی: مجھے ایرانی حکومت نے جماعت اور میرے والد کی وجہ سے بہت ہی احترام کا مقام دیا، میں اس پر اللہ تعالٰی کی شکر گزار ہوں ایران نے 85 ممالک میں مجھے ان 6 ممالک میں سرفہرست رکھا، جن لوگوں نے افتتاحی سیشن میں صدر احمدی نژاد کے ساتھ تقریریں کیں۔ مجھے اچانک ہی روسٹرم پر بلایا گیا، اس موقع پر ہم نے ایرانی خواتین اور پوری دنیا کی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور یہ بتایا کہ پاکستان میں بھی ایک بہت بڑی تعداد میں خواتین اسلام سے وابستہ بھی ہیں اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا بھی ہیں، لیکن ان کو وہ قیادت ابھی تک نصیب نہیں ہوئی جو ایرانی عوام کو نصیب ہو چکی ہے۔ ہم نے وہاں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم جدوجہد کریں گے، ہم نے ان کے ساتھ قومی یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ اس کے علاوہ میں نے خود بھی احمدی نژاد صاحب کو مبارکباد بھی دی کہ وہ نہایت احسن انداز میں ایرانی عوام کی ترجمانی کرتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ ہماری پاکستانی خواتین کے خصوصاً یوتھ کے آئیڈیل ہیں، اس پر ایرانی صدر نے خوشی اور تشکر اظہار کیا۔
اسلام ٹائمز: کیا ہماری پارلیمان میں خواتین کے نام پر پاس ہونے والے بل واقعاً شریعت کے مطابق ہیں۔؟سمعیہ راحیل قاضی: ہم جب پارلیمنٹ میں موجود تھے تو ہم نے کوشش کی کہ کوئی خلاف اسلام قانون سازی نہ ہو، لیکن چونکہ ہم تھوڑی تعداد میں تھے، اس وقت بھی حدود کے خلاف زبان درازی کی گئی، اللہ تعالٰی کی حدود کا مذاق اڑایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اللہ تعالٰی کی حدود کو پامال کرنے والے لوگوں کو دربدری کا سامنا ہے، پرویز مشرف سے لیکر اس وقت کے جتنے بھی وزیر ہیں، انہیں اللہ تعالٰی سے ڈرنا چاہیے اور آج بھی جو بہت دھڑلے سے اسلام کے خلاف قانون سازی کی جا رہی ہے، اسے فوری طور پر کالعدم قرار دینا چاہیے، مگر مولانا فضل الرحمان صاحب نے بہت ہی دلیرانہ اقدام اٹھایا ہے اور ان نام نہاد خواتیں کے حقوق کے لئے بننے والے قوانین کی مخالفت کی ہے۔ ہماری روایات و اقدار کا سودا کرنے والی سوداگر این جی اووز جو استعماری طاقتوں سے ڈالر لیکر ان کے اشاروں پر پاکستان میں خلاف اسلام قانون سازی کرتی ہیں، انہیں لگام دینے کی اشد ضرورت ہے۔
یہی این جی اووز پاکستان میں حجاب کرنے والی خواتین کا مذاق اڑاتی ہیں۔ حجاب کرنے والی خواتین اسلام دشمن طاقتوں کی نظر میں کھٹکتی ہیں، استعماری طاقتیں تمام مسلمانوں کی دشمن ہیں حجاب نہ کرنے والی عورتیں بھی استعمار کی دشمنی سے بچ نہیں سکیں گی، جب حجاب کرنے والی خواتین ختم ہوجائیں گی تو وہ لامحالہ جس کا نام صرف اسلامی خواتین کی طرح ہے، اس کی طرف رخ کریں گے اور اسے بھی ختم کریں گے۔ اس لئے ہمیں یہ نکتہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے۔ ان کی Divide and Rule کی پالیسی کو جب تک مسترد نہیں کریں گے اور جب تک ہم وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً